دوستو آجکل ڈپریشن اور مایوسی کا لفظ بہت زیادہ سننے میں آتا ہے. لوگ بہت جلد ہمت ہار جاتے ہیں جس سے نہ صرف انکی ذاتی زندگی تباہ ہو جاتی ہے بلکہ ان کے اہل خانہ کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے .

آج کی اس پوسٹ کا مقصد نامید لوگوں کی زندگی میں امید کی روشنی پیدا کرنا ہے تا کہ وہ ناصرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا نے کا سبب بنیں.
میں آپکو ایک واقعہ سنانے والا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے.

.واقعہ کچھ یوں ہے کے ایک ملک کا بادشاہ بہت ذہین اور سمجھدار تھا ایک روز بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ دربان نے بتایا کہ ایک بزرگ آپ سے ملنا چاھتے ہیں . بادشاہ نے کہا کہ ان کو بلا لو.
بزرگ جب دربار میں پھنچے تو بادشاہ نے پوچھا کہ کیا معامله ہے آپ کیوں مجھ سے ملنا چاھتے ہیں تو بزرگ نے جواب دیا بادشاہ سلامت میں نے سنا ہے کہ آپ بہت ذہین اور سمجھدار ہیں . میں بہت سے ملکوں میں گیا اور وہاں کے بادشاہوں سے ایک سوال کرتا تھا اور ان سے کہتا کے اگر وہ میرے سوال کا جواب دے دن تو میں ان کو ایک بیش قیمت ہیرا دوں گا اور ناکام ہونے کی صورت میں مجھے انعام و اکرام سے نوازا جائے . سارے بادشاہ میرے سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے اور مجھے بہت سا مل انعام میں ملتا رہا لیکن میں ایسے بادشاہ کی تلاش میں ہوں جو میرے سوال کا جواب دے سکے.
بادشاہ نے جب یہ ماجرا سنا تو کہنے لگا کہ بتاؤ وہ کونسا سوال ہے جسکا جواب کوئی نہیں دے پایا . بزرک نے اپنی جب میں ہاتھ ڈالا اور جیب سے دو ہیرے نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیے اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت میرے ہاتھ پر موجود ایک ہیرا ہے جو بہت بیش قیمت ہے جبکہ دوسرا ایک شیشہ ہے اگر آپ نے اصلی ہیرا پہچان لیا تو یہ ہیرا میں آپکو دے دوں گا لیکن اگر آپ نہ پہچان پائے تو مجھے انعام دینا ہو گا.
بادشاہ صورتحال دیکھ کر پریشان ہو گیا کیونکہ شیشہ اور ہیرا جسامت،شکل و صورت میں بلکل ایک جیسے تھے اور ان میں فرق کرنا ناممکن نظر آتا تھا .  نے بادشاہ نے پریشانی سے اپنے درباریوں کی طرف دیکھا تو سبھی وزیر و مشیر نظریں جھکا کر بیٹھے تھے اب بادشاہ کو سوال کا جواب دینا بھی ضروری تھا کیونکہ انعام دینے میں اسے کوئی دقت نہیں تھی بات عزت کی تھی کیونکہ بادشاہ اور اسکی رعایا بہت سمجھدار مشہور تھی . جب تھوڑی دیر گزری تو دربار میں سے ایک نابینا بزرگ بادشاہ کے قریب گئے اور اجازت مانگی کے اگر بادشاہ حکم دے تو وہ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں.
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ جب اتنے ذہین مشیر اور وزیر حتی کہ بادشاہ خود بھی ہیرا پہچاننے سے قاصر ہیں تو یہ نابینا بزرک کیسے ہیرے اور شیشے میں فرق کر پائے گا . بزرگ نے کہا کے جواب تو ویسے بھی کوئی نہی دے پائے گا تو مجھے موقع دینے میں کیا حرج ہے لہذا بادشاہ مان گیا..
بزرگ نے بادشاہ سے کہا کہ اس بوڑھے آدمی سے کہیں کہ یہ شیشہ اور ہیرا آپکو پکڑا دے اور آپ ان کو ایک پلیٹ میں رکھ کر باہر دھوپ میں رکھوا دیں اور کچھ دیر بعد اسے منگوا کر چھو کر دیکھیں جو شیشہ ہو گا وہ دھوپ سے گرم ہو جائے گا اور جو ہیرا ہو گا وہ اپنی اسی حالت میں رہے گا.
چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور دونوں کو دھوپ میں رکھوا دیا اور اس تھوڑی دیر بعد واپس منگواکر چھوا تو شیشہ واقعی گرم ہو چکا تھا اور ہیرا اپنی اسی حالت میں تھا بادشاہ نے مہمان بوڑھے کو بتایا کہ ان میں سے ہیرا کون سا ہے تو اس نے بادشاہ اور اسکی سمجھدار رعایا کی تعریف کی کہ جس سوال کا جواب کوئی نہیں دے پایا تھا وہ انہوں نے حل کر لیا.اور وہ ہیرا بادشاہ کو دے دیا

اس واقعہ سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے کہ جو شخص حالات کی سختی اور وقت کی تپش سے پریشان ہو جاتا ہے اور حوصلہ چھوڑ دیتا ہے وہ اس شیشے کی مانند ہے جو دھوپ میں گرم ہو گیا اور اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی جبکہ پریشانیوں کا ٹھنڈے مزاج اور حوصلے سے سامنا کرنے والا بیش قیمت ہیرے جیسا ہوتا ہے کیونکہ اس پر حالات کی گرمی کا اثر نہیں ہوتا.دوستو آپ بھی وقت کی گردش سے کبھی پریشان مت ہونا اوراپنی قدروقیمت ہیرے جیسی رکھنا. پوسٹ اچھی لگے تو دوستوں اور چاہنے والوں سے ضرور شئیر کریں.
Share To:

Lets Learn

Post A Comment:

0 comments so far,add yours